مظفرآباد: احتساب بیورو آزاد کشمیر کی تازہ رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم آزاد کشمیر مبینہ کرپشن کے الزامات میں دیگر تمام سابق وزرائے اعظم سے آگے نکل گئے ہیں۔ رپورٹ میں ان پر اربوں روپے کی سرکاری فنڈز میں بے ضابطگیوں، ٹھیکوں میں اقرباپروری، اور غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق احتساب بیورو نے سابق وزیراعظم کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران سرکاری ریکارڈ، بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔ ابتدائی شواہد کے مطابق مختلف ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بھاری خوردبرد کی گئی، جبکہ کئی منصوبے کاغذوں میں مکمل دکھائے گئے لیکن زمینی طور پر موجود نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے قریبی رفقا اور اہلخانہ کے نام پر کئی قیمتی جائیدادیں بیرونِ ملک بھی خریدی گئیں۔ احتساب بیورو نے مزید تحقیقات کے لیے ان افراد کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس رپورٹ کے بعد شدید ہلچل مچ گئی ہے، جبکہ حزبِ اختلاف نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمہ فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا حساب لیا جا سکے۔