لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے لیے ایک نیا اصلاحاتی تعلیمی ضابطہ متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ایسے طلباء جو دو یا اس سے زیادہ مضامین میں فیل ہوں گے، انہیں سخت تعلیمی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ فیصلہ صوبائی وزیر تعلیم کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، نئے ضابطے کے تحت ایسے طلباء کو آئندہ تعلیمی سیشن میں اضافی کلاسز اور لازمی پروموشن ٹیسٹ دینا ہوں گے۔ اس کے علاوہ، ان کے والدین کو بھی طلب کر کے کارکردگی رپورٹ دی جائے گی تاکہ گھر اور اسکول دونوں سطحوں پر بہتری لائی جا سکے۔
پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد طلباء میں تعلیمی نظم و ضبط اور سنجیدگی پیدا کرنا ہے، تاکہ شرحِ کامیابی میں اضافہ کیا جا سکے۔ محکمے کے ترجمان نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں میں صوبے کے مختلف اضلاع میں تعلیمی نتائج غیر تسلی بخش تھے، جس کی وجہ سے اصلاحاتی اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اگر کوئی طالب علم مسلسل دو سال دو یا زیادہ مضامین میں فیل ہوتا ہے تو اس کے لیے سزا کے طور پر اسکول کی سطح پر معطلی یا تعلیمی رہنمائی پروگرام میں شمولیت لازمی ہوگی۔
پنجاب حکومت نے تمام اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور ہر تین ماہ بعد کارکردگی رپورٹ جمع کرائیں۔ اس اقدام کو والدین کی تنظیموں اور اساتذہ کی انجمنوں نے تعلیمی معیار بہتر بنانے کی ایک مثبت کوشش قرار دیا ہے۔